واٹس ایپ اسکیم کیا ہے؟
پچھلے چند دنوں سے میرے واٹس ایپ پر روزانہ کسی نہ کسی باہر کے ملک کے نمبر سے میسج آتا ہے: "سلام! کیا آپ گھر بیٹھے روزانہ یوٹیوب ویڈیوز لائک کر کے 3 سے 5 ہزار روپے کمانا چاہتے ہیں؟"
پہلی نظر میں یہ آفر اتنی خوبصورت لگتی ہے کہ پاکستان کی موجودہ مہنگائی سے تنگ آیا ہوا کوئی بھی معصوم انسان اس جال میں پھنس جاتا ہے۔ اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے، یا آپ کے کسی دوست کو ایسا میسج آیا ہے، تو رک جائیے! یہ کوئی نوکری نہیں، بلکہ آپ کی جیب کاٹنے کا ایک بہت بڑا اور منظم جال ہے۔
آج میں آپ کو اپنے ایک قریبی دوست کی سچی کہانی سناتا ہوں جو اس چکر میں اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
یہ کھیل شروع کیسے ہوتا ہے؟
شروع میں یہ لوگ آپ کو واقعی 3 یوٹیوب ویڈیوز لائک کرنے کا ٹاسک دیتے ہیں اور ثبوت کے طور پر سکرین شاٹ مانگتے ہیں۔ جیسے ہی آپ سکرین شاٹ بھیجتے ہیں، وہ آپ کے جیز کیش یا ایزی پیسہ میں 500 یا 1000 روپے بھیج دیتے ہیں۔ یہاں انسان کا لالچ جاگ اٹھتا ہے کہ "واہ! کام تو سچ میں بہت آسان ہے"۔
اصلی جال: "پیسے ڈبل کرنے کی اسکیام"
جب آپ کا بھروسہ جیت لیا جاتا ہے، تو آپ کو ایک ٹیلی گرام گروپ میں شامل کیا جاتا ہے۔ وہاں آپ سے کہا جاتا ہے کہ "اگر آپ اب 5 ہزار روپے ہمارے اکاؤنٹ میں انویسٹ کریں گے، تو شام تک آپ کو 8 ہزار واپس ملیں گے"۔
لوگ گروپ میں دوسرے جعلی اکاؤنٹس کے سکرین شاٹس دیکھ کر (جو کہ انہی کے اپنے بندے ہوتے ہیں) پیسے بھیج دیتے ہیں۔ پہلی بار شاید وہ 5 ہزار کے 8 ہزار واپس کر بھی دیں، لیکن جیسے ہی آپ لالچ میں آ کر 50 ہزار یا 1 لاکھ روپے ٹرانسفر کرتے ہیں، وہ آپ کو گروپ سے بلاک کر دیتے ہیں اور آپ کا نمبر اڑا دیا جاتا ہے۔
میری آپ سب سے مخلصانہ اپیل
میرے بھائیو اور بہنو! انٹرنیٹ پر ایسی کوئی الہ دین کا چراغ والی نوکری نہیں ہے جو صرف بٹن دبانے پر ہزاروں روپے دے۔ پیسہ کمانے کے لیے یا تو کوئی ہنر (Skill) سیکھنا پڑتا ہے یا محنت کرنی پڑتی ہے۔
اگر کوئی آپ سے نوکری دینے کے نام پر ایک روپیہ بھی مانگے، تو سمجھ جائیں وہ فراڈ ہے۔ اپنے جیز کیش، ایزی پیسہ یا بینک کی معلومات کبھی کسی نامعلوم بندے سے شیئر نہ کریں۔ اس مہنگائی کے دور میں آپ کا ایک ایک روپیہ قیمتی ہے، اسے ان چوروں کے ہتھے نہ چڑھنے دیں۔

Comments
Post a Comment