ہمارے خواب بڑے کیوں ہیں اور دل اتنے اداس کیوں؟
آج کل ہر دوسرا انسان ایک عجیب سی دوڑ میں مصروف ہے۔ صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات کو بستر پر جانے تک، ذہن میں صرف ایک ہی سوال گردش کرتا رہتا ہے: "مزید آگے کیسے بڑھنا ہے؟" ہم سب کو لگتا ہے کہ شاید اگلی کامیابی، اگلی بڑی گاڑی، یا بینک اکاؤنٹ میں موجود چند اضافی ہندسے ہمیں وہ خوشی دے دیں گے جس کی ہمیں تلاش ہے۔
لیکن سچ تو یہ ہے کہ جیسے جیسے ہماری جیبیں بھرتی جا رہی ہیں، ہمارے دل اتنے ہی خالی اور اداس ہوتے جا رہے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے؟
مادی چیزیں اور اندر کا خالی پن
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں کامیابی کا معیار صرف اور صرف "پیسہ" بن چکا ہے۔ ہم دن رات محنت کرتے ہیں، اپنے آرام کی قربانی دیتے ہیں، اپنے پیاروں سے دور ہوتے ہیں تاکہ ایک بہتر مستقبل بنا سکیں۔ ہم ایک بڑا گھر خرید لیتے ہیں، لیکن اس گھر میں بیٹھ کر سکون سے بات کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ہم مہنگی ترین گاڑی خرید لیتے ہیں، لیکن اس میں بیٹھ کر سفر کرتے وقت بھی ذہن میں ہزاروں پریشانیاں سوار ہوتی ہیں۔
ہم مادی چیزوں کو تو اکٹھا کر لیتے ہیں، مگر وہ ذہنی سکون جو کسی دکان پر نہیں بکتا، اسے کہیں پیچھے چھوڑ آتے ہیں۔ اندر کا یہ خالی پن ہمیں تب محسوس ہوتا ہے جب سب کچھ ہونے کے باوجود رات کو سونے کے لیے سکون کی گولیاں لینی پڑتی ہیں۔
"لوگ کیا کہیں گے؟" کا خوف
ہماری آدھی زندگی صرف اسی ایک خوف کی نظر ہو جاتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ ہم دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے وہ چیزیں خریدتے ہیں جن کی ہمیں ضرورت بھی نہیں ہوتی، اور ان پیسوں سے خریدتے ہیں جو ہمارے پاس ہوتے بھی نہیں ہیں۔ اس دکھاوے کی ثقافت نے ہمیں اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ ہم خود کو اندر سے خالی کر کے دنیا کے سامنے خود کو کامیاب ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
حقیقی خوشی کہاں چھپی ہے؟
انسان کو یہ سمجھنے میں اکثر پوری زندگی لگ جاتی ہے کہ خوشی کسی بڑی کامیابی یا مہنگی چیز میں نہیں، بلکہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحوں میں ہوتی ہے۔
- کسی پرانے دوست سے بغیر کسی مقصد کے ملنا اور کھل کر ہنسنا۔
- شام کی چائے سکون سے بیٹھ کر اپنے گھر والوں کے ساتھ پینا۔
- کسی ضرورت مند کی چپکے سے مدد کر کے اس کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنا۔
یہ وہ چیزیں ہیں جو آپ کے دل کو اطمینان دیتی ہیں۔ پیسہ زندگی گزارنے کے لیے بے حد ضروری ہے، اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن پیسے کو زندگی کا واحد مقصد بنا لینا ہی ہماری سب سے بڑی بھول ہے۔

Comments
Post a Comment